صحیح بخاری حدیث ۳۷۹۲ - صبر اور حوض
صبر کی حدیث: حوض پر ملاقات کی امید
صحیح بخاری : ۳۷۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۹۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا ، قَالَ : " سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ " .
اسید بن حضیر روایت:
ایک انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں شخص کی طرح مجھے بھی آپ حاکم بنا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد (دنیاوی معاملات میں) تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۷۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک انصاری صحابی نے عرض کیا کہ مجھے بھی فلاں شخص کی طرح حاکم بنا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔ یہاں اصل سبق عہدہ مانگنے سے زیادہ صبر کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والی آزمائش کی خبر دی، مگر ساتھ راستہ بھی بتایا: صبر۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ دل میں شکوہ بڑھایا جائے یا لڑائی کی جائے؛ بلکہ صبر کی نصیحت کی گئی۔ اس لیے جب آدمی اپنے حق یا مقام کے معاملے میں کمی محسوس کرے، تو یہ حدیث اسے سنبھالتی ہے کہ جلد بازی کے بجائے صبر اختیار کرے۔ حوض کا ذکر امید بھی دیتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق بھی یاد دلاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیاوی ترجیح کے موقع پر صبر کی نصیحت کی گئی۔
- عہدہ مانگنے پر آپ صلى الله عليه وسلم نے اصل توجہ صبر کی طرف دلائی۔
- آزمائش کا جواب بے قابو ردعمل نہیں، صبر ہے۔
- حوض پر ملاقات کا ذکر امید دیتا ہے۔
