صحیح بخاری حدیث ۳۷۹۳ - ترجیح پر صبر
دوسروں کو ترجیح ملے تو صبر کیسے کریں؟
صحیح بخاری : ۳۷۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۹۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ : إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي ، وَمَوْعِدُكُمُ الْحَوْضُ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت دی جائے گی، پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو اور میری تم سے ملاقات حوض پر ہو گی۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۷۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو ایک آنے والی صورت حال سے خبردار فرمایا: میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت دی جائے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف نصیحت فرمائی کہ صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو، اور تمہاری ملاقات حوض پر ہو گی۔ یہ حدیث صبر کی حدیث کے طور پر بہت اہم ہے، خاص طور پر جب انسان محسوس کرے کہ اسے پیچھے رکھا جا رہا ہے۔ مگر حدیث کا مزاج شکایت پھیلانے کا نہیں، صبر سکھانے کا ہے۔ انصار کی فضیلت کے ساتھ یہاں ان کی آزمائش بھی بیان ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محبوب بندوں کو بھی دنیا میں ایسے حالات پیش آ سکتے ہیں جن میں صبر ہی بہتر راستہ ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ترجیح یا حق تلفی کے احساس پر صبر کی تعلیم دی گئی۔
- انصار کو آنے والی آزمائش سے پہلے آگاہ کیا گیا۔
- حوض پر ملاقات کا وعدہ امید کا سبب ہے۔
- محبوب لوگوں کو بھی دنیاوی آزمائش آ سکتی ہے۔
