صحیح بخاری حدیث ۳۷۹۵ - آخرت کی زندگی
اصل زندگی آخرت کی ہے: انصار و مہاجرین کے لیے دعا
صحیح بخاری : ۳۷۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۹۵
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ " . وَعَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خندق کھودتے وقت) فرمایا ”حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے، پس اے اللہ! انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔“ اور قتادہ سے روایت ہے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح، اور انہوں نے بیان کیا اس میں یوں ہے ”پس انصار کی مغفرت فرما دے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۷۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جامع جملہ آیا ہے: حقیقی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کے لیے دعا فرمائی؛ ایک روایت میں اصلاح کا ذکر ہے اور دوسری میں انصار کی مغفرت کا لفظ آیا ہے۔ یہ حدیث غزوہ خندق کے ماحول سے متعلق ہے، مگر اصل پیغام بہت صاف ہے: دنیا کی محنت، تھکن اور مشکل کے بیچ آخرت کو یاد رکھنا۔ جب انسان دین کے کام میں مشقت اٹھاتا ہے تو اسے یہ بات سنبھالتی ہے کہ اصل ٹھکانا آخرت ہے۔ یہاں مہاجرین و انصار کی فضیلت بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ اس حدیث کو پڑھ کر آدمی دنیا کی عارضی تکلیف کو آخرت کی امید کے ساتھ دیکھنا سیکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔
- مشکل وقت میں آخرت کو یاد رکھنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے انصار اور مہاجرین کے لیے دعا فرمائی۔
- دین کے کام میں تھکن آئے تو دعا اور امید کے ساتھ چلنا چاہیے۔
