صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۲ - حیا، خلوت اور آیت کا سبب

حیا اور خلوت کی حدیث: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۸۲

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَرَأَ : 0 أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ 0 ، قُلْتُ : " يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، مَا تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ ؟ قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ فَيَسْتَحِي ، أَوْ يَتَخَلَّى ، فَيَسْتَحِي ، فَنَزَلَتْ 0 أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ 0 " .

محمد بن عباد بن جعفر روایت:

ابن عباس رضی اللہ عنہما اس طرح قرآت کرتے تھے «ألا إنهم تثنوني صدورهم‏» محمد بن عباد نے پوچھا: اے ابو العباس! «تثنوني صدورهم‏» کا کیا مطلب ہے؟ بتلایا کہ کچھ لوگ اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے میں حیاء کرتے اور خلاء کے لیے بیٹھتے ہوئے بھی حیاء کرتے تھے۔ انہیں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ «ألا إنهم تثنوني صدورهم‏» آخر آیت تک۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۶۸۲ کا خلاصہ

اس روایت میں محمد بن عباد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تثنونی صدورهم کا کیا مطلب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ کچھ لوگ اپنی بیوی سے ہمبستری کرتے ہوئے حیا کرتے تھے، یا خلاء کے لیے بیٹھتے ہوئے حیا کرتے تھے۔ پھر اسی بارے میں آیت نازل ہوئی۔ اس حدیث کا اصل دائرہ حیا، خلوت، ستر اور آیت کی تفسیر ہے۔ حیا کی حدیث تلاش کرنے والے کے لیے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہاں عام حیا کی مذمت نہیں، بلکہ ایک خاص صورت کا ذکر ہے جسے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کے پس منظر میں بیان کیا۔ اس لیے بیان کو اسی حد میں رکھنا چاہیے، نہ اس سے زائد حکم نکالنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ آیات کے الفاظ کا مطلب پوچھتے اور سمجھتے تھے۔
  • کچھ لوگوں کی حیا کا ایک خاص واقعہ اس آیت کے ساتھ بیان ہوا۔
  • خلوت کے مسائل میں دین کی رہنمائی کو سمجھنا ضروری ہے۔
  • روایت سے وہی بات لی جائے جو اس میں صاف بیان ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں