صحیح بخاری حدیث ۴۷۵۴ - ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات
عائشہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات والی روایت: نقل میں احتیاط
صحیح بخاری : ۴۷۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۵۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ نِسْيًا مَنْسِيًّا .
قاسم بن محمد روایت:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی اجازت چاہی۔ پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا لیکن اس حدیث میں راوی نے لفظ «نسيا منسيا.» کا ذکر نہیں کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۵۴ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے قریب معنی رکھتی ہے، مگر اس میں راوی نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی اجازت چاہی، پھر اسی طرح کا واقعہ بیان کیا، لیکن اس روایت میں نسيا منسيا کے الفاظ نہیں آئے۔ اس کا موضوع صرف عائشہ رضی اللہ عنہا کی عاجزی نہیں، بلکہ حدیث نقل کرنے میں احتیاط بھی ہے۔ راوی نے جو لفظ اپنی روایت میں نہیں سنا یا نقل نہیں کیا، اسے صاف بیان کر دیا۔ یہ انداز ہمیں بتاتا ہے کہ حدیث کے الفاظ میں امانت کتنی ضروری ہے۔ یہاں شرح میں اضافی باتیں شامل کرنے کے بجائے یہی کہنا کافی ہے کہ اس روایت میں اصل واقعہ وہی ہے، لیکن ایک مخصوص لفظ کا ذکر نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث نقل کرتے وقت الفاظ کی امانت ضروری ہے۔
- راوی نے صاف بتایا کہ اس سند میں ایک خاص لفظ ذکر نہیں ہوا۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ مختلف سندوں سے نقل ہوا۔
- علمی بات میں جو ثابت ہو وہی کہنا چاہیے، زائد بات نہیں ملانی چاہیے۔
