صحیح بخاری حدیث ۵۰۹۶ - عورتوں کے فتنے سے احتیاط
عورتوں کا فتنہ: مردوں کے لیے بڑی آزمائش کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۰۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۹۶
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ " .
اسامہ بن زید روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنہ سے بڑھ کر نقصان دینے والا اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع فتنہ اور احتیاط ہے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنے سے بڑھ کر نقصان دینے والا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔ حدیث کے الفاظ بہت صاف ہیں کہ مخاطب مرد ہیں اور بات عورتوں کے فتنے کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر عورت کو برا کہا جا رہا ہے، بلکہ متن میں مردوں کے لیے ایک آزمائش کا ذکر ہے۔ اس لیے اسے عفت، احتیاط اور نفس پر قابو کے پہلو سے سمجھنا چاہیے۔ یہ حدیث “عورتوں کا فتنہ” یا “ما تركت بعدي فتنة” کے الفاظ سے بہت تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مردوں کے لیے عورتوں کا فتنہ ایک سخت آزمائش ہو سکتا ہے۔
- حدیث میں مردوں کو احتیاط کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
- اس روایت کو عورتوں کی عمومی مذمت کے طور پر نہیں بڑھانا چاہیے۔
- دین میں عفت اور نفس پر قابو رکھنے کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔
