صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۶ - ضرورت مند کی سفارش کا اجر
ضرورت مند کی سفارش: اشفعوا تؤجروا کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۴۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۷۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَتَاهُ السَّائِلُ ، وَرُبَّمَا قَالَ : جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ ، قَالَ : اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا ، وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ " .
ابوموسیٰ روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مانگنے والا آتا یا کوئی ضرورت مند آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اس کی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی ثواب ملے، اللہ اپنے رسول کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مانگنے والا یا ضرورت مند آتا تو آپ فرماتے کہ اس کی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی ثواب ملے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ اپنے رسول کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ اس حدیث میں سفارش کا مطلب کسی ضرورت مند کے حق میں اچھی بات کہنا اور اس کی جائز مدد کے لیے آواز اٹھانا ہے، جیسا کہ متن سے ظاہر ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ہر سفارش لازماً قبول ہو گی، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ سفارش کرنے والے کو اجر مل سکتا ہے، جبکہ فیصلہ اللہ کے حکم اور اس کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت مند کے لیے اچھی سفارش کرنا اجر کا سبب بن سکتا ہے۔
- مدد صرف مال سے نہیں، اچھی بات اور سفارش سے بھی ہو سکتی ہے۔
- فیصلہ آخرکار اللہ کی مشیت کے تحت ہوتا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو خیر کے کام میں شریک کرتے تھے۔
