صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۷ - دعا میں پختہ سوال
دعا کا ادب: اللہ سے پختگی کے ساتھ مانگنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۴۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۷۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ارْحَمْنِي ، إِنْ شِئْتَ ارْزُقْنِي ، إِنْ شِئْتَ وَليَعْزِمْ مَسْأَلَتَهُ إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ لَا مُكْرِهُ لَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص اس طرح دعا نہ کرے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت کر، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، اگر تو چاہے تو مجھے روزی دے، بلکہ پختگی کے ساتھ سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس پر جبر کرنے والا نہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کا ایک اہم ادب سکھایا۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت فرما، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما، اگر تو چاہے تو مجھے روزی دے۔ بلکہ بندے کو چاہیے کہ پختگی کے ساتھ سوال کرے۔ وجہ یہ بیان فرمائی کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، کوئی اسے مجبور کرنے والا نہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دعا کرتے وقت بندہ کمزور یا مشکوک انداز نہ اپنائے، بلکہ اللہ کی قدرت پر یقین رکھتے ہوئے صاف سوال کرے۔ اللہ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں، اور کوئی اس پر دباؤ ڈالنے والا نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعا میں اللہ سے پختگی کے ساتھ مانگنا چاہیے۔
- مغفرت، رحمت اور رزق مانگتے وقت کمزور انداز اختیار نہ کیا جائے۔
- اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا۔
- دعا بندے کی محتاجی اور اللہ کی قدرت کا اقرار ہے۔
