صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۰ - نماز میں گفتگو کی ممانعت
نماز میں گفتگو کی ممانعت: تسبیح، تکبیر اور قرآن کا سبق
صحیح مسلم : ۱۲۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۰۰
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
ان اسناد کے ساتھ بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۰ کا خلاصہ
یہ روایت انہی اسناد کے ساتھ پچھلی حدیث کے ہم معنی آئی ہے۔ اس کا اصل موضوع نماز میں گفتگو کی ممانعت ہے۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کے واقعے میں نماز کے اندر بات کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت نرم انداز میں سمجھایا کہ نماز میں عام لوگوں والی بات درست نہیں۔ نماز کا کام تسبیح، تکبیر اور قرآن پڑھنا ہے۔ اسی واقعے میں یہ بھی آتا ہے کہ اسلام آنے کے بعد سابقہ جاہلی عادتوں کے بارے میں سوال کیے گئے، جیسے کاہنوں کے پاس جانا، بدشگونی لینا اور لکیریں کھینچنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بات کا مختصر جواب دیا۔ اس روایت سے نماز کے ادب کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیا مسلمان سوال کرے تو اسے اچھے انداز سے سکھایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں عام گفتگو سے بچنے کا حکم سمجھایا گیا۔
- نماز کو تسبیح، تکبیر اور قرآن کے ساتھ خاص کیا گیا۔
- دینی غلطی پر نرم تعلیم کا انداز اپنانا چاہیے۔
- جاہلیت کی عادتوں کے بارے میں سوال کر کے صحیح بات معلوم کی جا سکتی ہے۔
