صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۱ - نماز میں سلام اور خاموشی کا حکم

نماز میں سلام کا جواب: نماز کی توجہ اور سکون

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۰۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأبو سعيد الأشج وألفاظهم متقاربة ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ ، سَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ ، فَتَرُدُّ عَلَيْنَا ؟ فَقَالَ : " إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

ہم سلام کیا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہی جواب دیتے۔ جب ہم نجاشی کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ نماز کے بعد ہم نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم پہلے آپ کو سلام کیا کرتے تھے اور آپ نماز میں ہوتے تو جواب دیتے تھے لیکن اب آپ نے جواب نہیں دیا (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نماز میں سلام کرنے سے) دل پریشان ہوتا ہے (خضوع اور خشوع میں فرق آتا ہے)۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۲۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام نماز میں سلام کا جواب اور نماز میں خاموشی سے متعلق ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ پہلے صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں سلام کرتے تھے اور آپ جواب دیتے تھے۔ پھر جب وہ نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو انہوں نے سلام کیا، مگر آپ نے جواب نہ دیا۔ نماز کے بعد وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا کہ نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز عام گفتگو کا وقت نہیں، بلکہ بندے کی توجہ اللہ کی طرف ہونی چاہیے۔ نماز میں سلام، نماز میں بات کرنا، اور خشوع کے مسائل کو سمجھنے کے لیے یہ حدیث بہت اہم ہے۔ اس میں انداز بھی نرم ہے؛ سوال ہوا، جواب دیا گیا، اور بات صاف کر دی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں اصل توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رہنی چاہیے۔
  • نماز کے دوران سلام کا زبانی جواب نہ دینا اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
  • صحابہ کرام حکم معلوم ہونے پر فوراً وجہ پوچھتے اور سیکھتے تھے۔
  • نماز میں غیر ضروری مشغولیت سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں