صحیح مسلم حدیث ۱۵۱۶ - قدموں کے اجر کی امید
مسجد تک قدموں کے اجر کی امید رکھنے والے صحابی کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۵۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۱۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ ، فَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَتَوَجَّعْنَا لَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا فُلَانُ ، لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنَ الرَّمْضَاءِ ، وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الأَرْضِ ، قَالَ : أَمَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا ، حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَدَعَاهُ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ لَهُ : أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الأَجْرَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ " .
ابی بن کعب روایت:
انصار میں سے ایک شخص تھے کہ ان کا گھر مدینہ کے سب گھروں میں مسجد سے دور تھا اور ان کی کوئی جماعت جانے نہ پاتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو ہم لوگوں کو ان پر ترس آیا اور میں نے ان سے کہا کہ کاش تم ایک گدھا خرید لو کہ تمہیں گرمی سے اور راہ کے کیڑے مکوڑوں سے بچائے۔انہوں نے کہا: سنو! قسم ہے اللہ کی کہ میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے متصل ہو۔ اور مجھ پر اس کی یہ بات بہت بار اور گراں گزری اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ کہا جو مجھ سے کہا تھا اور ذکر کیا کہ میں اپنے قدموں کا اجر چاہتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم کو اجر ہے جس کے تم امیدوار ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک انصاری صحابی کا واقعہ ہے جن کا گھر مدینہ میں مسجد سے بہت دور تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی کوئی جماعت نہیں چھوٹتی تھی۔ لوگوں کو ان پر ترس آیا اور سواری لینے کا مشورہ دیا گیا تاکہ گرمی اور راستے کی تکلیف سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کا گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے پاس ہو، کیونکہ وہ اپنے قدموں کا اجر چاہتے ہیں۔ جب یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے انہیں بلایا۔ انہوں نے اپنی نیت بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی۔ اس حدیث کا اصل موضوع نیت، مسجد کے قدم اور جماعت کی پابندی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دور گھر ہونے کے باوجود جماعت کی پابندی کی گئی۔
- صحابی نے اپنے قدموں کے اجر کی امید رکھی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیت کے مطابق اجر کی خبر دی۔
- نماز کے لیے برداشت کی گئی مشقت کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
