صحیح مسلم حدیث ۲۲۰۱ - جنازہ گزرنے کی روایت
جنازہ کی حدیث: ایک ہی واقعہ مختلف سند سے
صحیح مسلم : ۲۲۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۰۱
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ " ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَتَمُّ .
اس سند سے بھی گزشتہ روایت آئی ہے کچھ لفظوں کی تبدیلی کے ساتھ۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اور راوی نے بتایا کہ یہ روایت اسی معنی میں آئی ہے جو گزشتہ روایت میں بیان ہوا تھا، البتہ الفاظ میں کچھ فرق ہے۔ یہاں کور موضوع جنازہ کی حدیث اور روایت کے الفاظ ہیں۔ آسان زبان میں سمجھیں تو حدیث کے متن میں کبھی ایک ہی واقعہ مختلف سندوں سے آتا ہے۔ اس سے طالب علم کو معلوم ہوتا ہے کہ بات کا اصل مفہوم برقرار رہتا ہے، اگرچہ بعض الفاظ کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اس روایت میں عبدالعزیز والی روایت کو زیادہ مکمل بتایا گیا ہے، اس لیے یہاں زور اسی بات پر ہے کہ جنازہ گزرنے کے واقعے کو نقل کرنے میں امانت اور احتیاط رکھی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث نقل کرتے وقت الفاظ کے فرق کو واضح کرنا علمی امانت ہے۔
- ایک ہی واقعہ مختلف سندوں سے آئے تو اصل معنی کو سمجھنا ضروری ہے۔
- جنازہ سے متعلق روایت کو مختصر اور مکمل دونوں انداز میں نقل کیا جا سکتا ہے، جیسا متن میں آیا ہے۔
