صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۴ - عطا کی حکمت کی دوسری سند
مال کی تقسیم: پچھلی حدیث کی تائیدی روایت
صحیح مسلم : ۲۴۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۳۴
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَلَى مَعْنَى حَدِيثِ صَالِحٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۴ کا خلاصہ
یہ روایت بتاتی ہے کہ پچھلی حدیث دوسرے اسناد سے بھی مروی ہے اور اس کا معنی وہی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مال دینا یا کسی کو نہ دینا صرف ظاہری پسند یا ناپسند پر نہیں تھا۔ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو اس لیے دیتے تھے کہ اس کے دین یا انجام کے بارے میں اندیشہ ہوتا۔ اس روایت سے یہ بات مضبوط ہوتی ہے کہ عطا کی تقسیم میں حکمت، دلوں کی رعایت اور دینی فائدہ شامل ہو سکتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ ظاہری تقسیم دیکھ کر جلدی فیصلہ نہ کرے، کیونکہ ہر معاملے کی پوری وجہ اس کے سامنے نہیں ہوتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مضبوط کرتی ہے۔
- مال دینے یا نہ دینے میں حکمت ہو سکتی ہے۔
- ظاہری تقسیم دیکھ کر جلدی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دلوں کی حالت کا خیال رکھتے تھے۔
