صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۵ - سعد رضی اللہ عنہ کو محبت بھری تنبیہ

یا سعد! عطا کی حکمت کو سمجھو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۳۵

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَا ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ، ثُمَّ قَالَ : " أَقِتَالًا أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ " .

محمد بن سعد روایت:

سیدنا محمد بن سعد رضی اللہ عنہ سے یہی روایت زہری کی مروی ہوئی۔ اس میں اتنی بات زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور شانے کے بیچ میں ہاتھ مارا اور فرمایا: ”کیا لڑتے ہو اے سعد!۔“ پھر آگے وہی بات فرمائی (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت سے فرمایا کہ کیا تم ہم سے لڑتے ہو حالانکہ ان کی کیا مجال تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۵ کا خلاصہ

اس روایت میں پچھلے واقعے کی ایک اضافی بات آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی گردن اور کندھے کے بیچ ہاتھ مارا اور فرمایا: کیا لڑتے ہو اے سعد! پھر وہی بات فرمائی کہ میں کبھی ایک شخص کو دیتا ہوں۔ یہاں انداز سختی کا نہیں بلکہ محبت بھری تنبیہ کا ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ ایک شخص کے بارے میں اچھا گمان رکھتے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بتا رہے تھے کہ عطا کے فیصلے کے پیچھے ایک دینی حکمت ہو سکتی ہے۔ اس حدیث میں نرمی سے سمجھانا، سوال کرنے والے کی اصلاح کرنا اور فیصلے کی اصل وجہ بتانا سب شامل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نصیحت محبت بھرے انداز میں بھی کی جا سکتی ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو نرمی سے سمجھایا۔
  • مال کی عطا کے پیچھے دینی حکمت ہو سکتی ہے۔
  • اچھا گمان اپنی جگہ، مگر نبوی فیصلہ زیادہ حکمت والا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں