صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۶ - انصار کی فضیلت اور صبر
انصار کی فضیلت: مال کے بجائے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی رفاقت
صحیح مسلم : ۲۴۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۳۶
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ الْأنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ ، فَقَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا ، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَحُدِّثَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِمْ ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " فَقَالَ لَهُ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ : أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا ، وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا ، وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ ، أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ ، فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ " ، فَقَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ " ، قَالُوا : سَنَصْبِرُ ،
انس روایت:
انصار کے چند لوگوں نے حنین کے دن کہا، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اموال ہوازن میں سے کچھ مال بغیر لڑے بھڑے دلوا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں کو قریش میں سے سو اونٹ دئیے تو انصار کے لوگ کہنے لگے: اللہ اپنے رسول کہ بخشے کہ وہ قریش کو دیتے ہیں ہمیں چھوڑ کر اور ہماری تلواریں ابھی تک قریش کا خون ٹپکا رہی ہیں۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا بھیجا اور ان کو چمڑے کے خیمے میں جمع کیا پھر جب سب جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ کیا بات ہے جو تمہارے طرف سے مجھے پہنچی ہے؟“ تب ان میں سے سمجھ دار لوگوں نے کہا کہ جو ہم میں فہمیدہ لوگ ہیں یارسول اللہ انہوں نے تو کچھ بھی نہیں کہا، کم سن لوگ ہم میں سے بولے کہ اللہ بخشے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے اور ہماری تلواریں ان کے خون ابھی تک ٹپکا رہی ہیں۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی کافر تھے ان کا دل خوش کرنے کو اور تم لوگ خوش نہیں ہوتے اس سے کہ لوگ تو مال لے کر اپنے گھر چلے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ۔ سو البتہ قسم ہے اللہ تعالیٰ کی تم جو لے کر گھر جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر گھر جائیں گے۔“البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن ساری دنیا سے بہتر ہے) پھر سب انصار نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ہم راضی ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے تم پر بہت لوگ مقدم کیئے جائیں گے۔ (یعنی تمہیں چھوڑ کر اوروں کو دیں گے) تو تم صبر کرنا یہاں تک کہ ملاقات کرو تم اللہ سے اور اس کے رسول سے کہ میں حوض (کوثر) پر ہوں گا۔“ انہوں نے کہا: اب ہم صبر کریں گے۔ «بعون الله و قوته»
صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حنین کے بعد مال کی تقسیم کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے کچھ لوگوں کو سو سو اونٹ دیے، تو انصار کے کچھ کم سن لوگوں نے دل میں بات محسوس کی۔ جب یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے انصار کو جمع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی کفر سے نئے نکلے ہیں، تاکہ ان کے دل قریب ہوں۔ پھر فرمایا کہ کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ لوگ مال لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھروں کو جاؤ؟ انصار نے کہا کہ ہم راضی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کی نصیحت فرمائی اور حوض پر ملاقات کا ذکر فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کی تقسیم میں دلوں کو جوڑنے کی حکمت ہو سکتی ہے۔
- انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی عظیم قدر یاد دلائی گئی۔
- ناراضی کی بات کو صاف انداز میں پوچھ کر حل کیا گیا۔
- آنے والی ترجیحِ غیر کے وقت صبر کی نصیحت کی گئی۔
