صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۷ - انصار کا امتحان اور صبر
حنین کے بعد انصار: صبر کی آزمائش
صحیح مسلم : ۲۴۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۳۷
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ " ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : فَلَمْ نَصْبِرْ ، وَقَالَ : " فَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ " ،
انس بن مالک روایت:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہی روایت دوسرے سند سے مروی ہوئی اسی روایت کی مثل جو گزری اس میں اتنا زیادہ ہے کہ انس نے کہا: پھر ہم لوگ صبر نہ کر سکے اور «أُنَاسٌ منا» میں «منا» کا لفظ نہیں کہا باقی مضمون وہی ہے کہا مسلم نے اور روایت کی ہم سے زہیر بن حرب نے، ان سے یعقوب نے، ان سے ابن شہاب کے بھتیجے نے، ان سے ان کے چچا نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور روایت کی حدیث مثل اس کی (جو گزری) اور اس میں بھی ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم صبر نہ کر سکے جیسے روایت یونس کی ہے زہری سے (جو اس کے اوپر گزری)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون جیسی ہے۔ اس میں حنین کے مال، قریش کو عطا، انصار کی بات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار کو جمع فرمانا شامل ہے۔ ایک اضافہ یہ ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں صبر نہ کر سکنے کا ذکر آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دلوں پر اثر ڈالنے والا تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناراضی بڑھنے سے پہلے سنبھالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل حکمت بیان فرمائی کہ کچھ لوگوں کے دل جوڑنے کے لیے مال دیا گیا۔ انصار کو بتایا گیا کہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت مال سے بڑھ کر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بڑے لوگوں کو بھی دل میں بات محسوس ہو سکتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کو چھپنے نہیں دیا بلکہ سمجھایا۔
- دل جوڑنے کے لیے کبھی مال استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- انصار کو مال کے مقابلے میں نبوی رفاقت کی قدر یاد دلائی گئی۔
