صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۸ - ہم صبر کریں گے
انصار کا جواب: ہم صبر کریں گے
صحیح مسلم : ۲۴۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۳۸
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بمثله ، إلا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : قَالُوا : نَصْبِرُ ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے اس میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ انہوں نے کہا: ہم صبر کریں گے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۸ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی واقعے کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں خاص طور پر یہ لفظ آیا کہ انصار نے کہا: ہم صبر کریں گے۔ یہ جملہ بہت اہم ہے، کیونکہ پہلے دل میں مال کی تقسیم کے بارے میں بات پیدا ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت سمجھائی، اپنی رفاقت کی قدر یاد دلائی، اور آنے والے وقت میں صبر کی نصیحت فرمائی۔ اس کے بعد انصار کا جواب ماننے، راضی ہونے اور صبر اختیار کرنے کا تھا۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ جب صحیح بات سمجھا دی جائے تو دل کو سنبھالنا اور صبر کا فیصلہ کرنا مومنوں کا اچھا عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نصیحت سن کر دل کو بدلنا اچھی بات ہے۔
- انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات قبول کی۔
- صبر صرف خاموشی نہیں، دل سے فیصلہ بھی ہے۔
- مال کے مقابلے میں دینی نسبت زیادہ قیمتی ہے۔
