صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۹ - انصار کا مقام اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی محبت

انصار کی شان: میں انصار کی گھاٹی میں جاؤں گا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۳۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ ، فَقَالَ : " أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ ، فَقَالُوا : لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَسَلَكَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو ایک جگہ جمع کیا اور فرمایا: ”تم میں کوئی غیر ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں مگر ایک ہماری بہن کا لڑکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہن کا لڑکا قوم میں داخل ہے۔“پھر فرمایا: ”قریش نے ابھی جاہلیت کو چھوڑا ہے اور ابھی مصیبت سے نجات پائی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان کی فریاد رسی کروں اور ان کی دلجوئی کروں اور کیا تم خوش نہیں ہوتے ہو کہ لوگ دنیا لے کر چلے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ (باقی رہی میری محبت اور رفاقت تمہارے ساتھ وہ تو ایسی ہی ہے) کہ اگر سب لوگ ایک میدان کی راہ لیں اور انصار ایک گھاٹی کی (جو دو پہاڑوں کے بیچ میں ہو) تو میں انصار ہی کی گھاٹی میں جاؤں۔“ (اور ان کا ساتھ کبھی نہ چھوڑوں)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو جمع فرمایا اور پوچھا کہ تم میں کوئی غیر تو نہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایک ہماری بہن کا بیٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قوم کا بھانجا بھی انہی میں سے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے بارے میں بتایا کہ وہ ابھی جاہلیت اور مصیبت کے دور سے نئے نکلے ہیں، اس لیے آپ ان کی فریاد رسی اور دل جوئی چاہتے ہیں۔ پھر انصار کو فرمایا کہ کیا تم خوش نہیں ہوتے کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھروں کو جاؤ؟ آخر میں آپ نے فرمایا کہ اگر لوگ ایک وادی لیں اور انصار ایک گھاٹی، تو میں انصار کی گھاٹی میں جاؤں گا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بھانجا بھی قوم کے افراد میں شمار کیا گیا۔
  • قریش کی دل جوئی کا سبب صاف طور پر بتایا گیا۔
  • انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت کی عظمت یاد دلائی گئی۔
  • انصار کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص محبت ظاہر ہوئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں