صحیح مسلم حدیث ۲۴۴۰ - دنیا کے بجائے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی رفاقت
انصار اور دنیا: تم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو لے کر جاؤ
صحیح مسلم : ۲۴۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۴۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ ، قَسَمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ ، فَقَالَ : " مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " ، قَالُوا : هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ ، وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ ، قَالَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا إِلَى بُيُوتِهِمْ ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا ، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ ، أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " .
انس روایت:
جب مکہ فتح ہوا تو غنیمت قریش میں بانٹی گئی اور انصار نے کہا: یہ بڑی تعجب کی بات ہے کہ ہماری تو تلواریں خون بہائیں اور غنیمت یہ لوگ لے جائیں اور یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اکٹھا کیا اور فرمایا: ”یہ کیا بات ہے جو مجھے تم سے پہنچی ہے؟“انہوں نے غرض کی کہ جی ہاں وہی بات ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی اور وہ لوگ کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم کو خوشی نہیں ہوتی کہ اور لوگ دنیا لے کر اپنے گھر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ اور میرا حال تو یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک میدان کی راہ لیں یا گھاٹی کی اور انصار ایک وادی یا گھاٹی کی تو میں انصار کی وادی میں چلوں یا انہی کی گھاٹی میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں فتح مکہ کے بعد غنیمت کی تقسیم کا ذکر ہے۔ انصار نے کہا کہ ہماری تلواروں نے خون بہایا اور غنیمت قریش کو دی جا رہی ہے۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے انہیں جمع فرمایا اور پوچھا کہ مجھے تمہارے بارے میں کیا بات پہنچی ہے؟ انہوں نے سچائی سے کہا کہ جی ہاں، یہی بات ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم خوش نہیں کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھروں کو جاؤ؟ پھر آپ نے انصار کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار فرمایا کہ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں جائیں اور انصار دوسری طرف جائیں تو آپ انصار ہی کی وادی یا گھاٹی اختیار فرمائیں گے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انصار نے بات چھپائی نہیں بلکہ سچ کہا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کو حکمت سے ختم فرمایا۔
- دنیا کے مال سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت تھی۔
- انصار کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص محبت بیان ہوئی۔
