صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۳ - عطا کی حکمت اور ایمان کا ادب

عطا کی حکمت: ہر تقسیم کے پیچھے ایک وجہ ہو سکتی ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۳۳

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ ، قَالَ : فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ ، قَالَ : " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ ، قَالَ : " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ ، قَالَ : " أَوْ مُسْلِمًا " ، قَالَ : " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ " ، وَفِي حَدِيثِ الْحُلْوَانِيِّ تَكْرِيرُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ ،

سعد روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو کچھ مال دیا اور میں بھی ان میں ایک بیٹھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو چھوڑ دیا جو میرے نزدیک ان سب سے اچھا تھا، سو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑا ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! میں اس کو مؤمن سمجھتا ہوں، آپ اس کو کیوں نہیں دیتے، میں اسے اللہ کی قسم! مؤمن جانتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید مسلم ہو۔“پھر میں تھوڑی دیر چپ رہا اور پھر اس کی خوبی نے جو مجھے معلوم تھی غلبہ کیا اور میں نے پھر عرض کی کہ یارسول اللہ! آپ اسے کیوں نہیں دیتے، اس کو اللہ کی قسم! میں مؤمن جانتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید مسلم ہو۔“ پھر میں چپ ہو رہا اور پھر اس کی خوبی نے جو مجھے معلوم تھی مجھ پر غلبہ کیا اور میں نے پھر عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ اسے کیوں نہیں دیتے، اللہ کی قسم! میں اسے مؤمن جانتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید مسلم ہو۔“پھر تیسری بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”میں اکثر ایک کو دیتا ہوں اور دوسرا میرے نزدیک اس سے اچھا ہوتا ہے اس خیال سے کہ اگر میں اسے نہ دوں گا تو یہ اوندھے منہ دوزخ میں چلا جائے گا۔“ اور حلوانی کی روایت میں وہ قول جو تین بار مروی ہوا دو ہی بار ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۳۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا اور ایک شخص کو نہ دیا، حالانکہ سعد رضی اللہ عنہ کے نزدیک وہ بہت اچھا تھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں اسے مؤمن سمجھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید مسلم ہو۔ یہ بات بار بار ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کبھی ایک شخص کو دیتا ہوں، جبکہ دوسرا میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اس ڈر سے کہ جسے نہ دیا جائے وہ دوزخ میں اوندھے منہ نہ جا پڑے۔ اس حدیث میں مال دینے کی حکمت، دلوں کی حالت اور لفظ مؤمن کہنے میں احتیاط کا سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر عطا کا مطلب یہ نہیں کہ لینے والا سب سے افضل ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کسی دینی مصلحت سے دیتے تھے۔
  • کسی کو مؤمن کہنے میں احتیاط کا پہلو سکھایا گیا۔
  • ظاہر دیکھ کر ہر فیصلے کی پوری حکمت سمجھ نہیں آتی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں