صحیح مسلم حدیث ۳۲۴۳ - کعبہ کے خزانے اور دروازے کا ذکر
کعبہ کی تعمیر: حطیم اور دروازے کا بیان
صحیح مسلم : ۳۲۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۴۳
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَت : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، أَوَ قَالَ : بِكُفْرٍ ، لَأَنْفَقْتُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالْأَرْضِ ، وَلَأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”کہ اگر تمہاری قوم نئی نئی جاہلیت کو نہ چھوڑی ہوتی یا کفر کو تو میں کعبہ کا خزانہ اللہ کی راہ میں صرف کر دیتا۔ (یعنی جہاد میں) اور اس میں دروازے زمین کے برابر بناتا اور حطیم کو کعبہ میں ملا دیتا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۲۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر قوم نئی نئی جاہلیت یا کفر سے نہ نکلی ہوتی تو آپ صلى الله عليه وسلم کعبہ کا خزانہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے، اس کا دروازہ زمین کے برابر بنا دیتے اور حطیم کو کعبہ میں شامل کر دیتے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع کعبہ کی تعمیر ہے۔ یہاں کعبہ کا خزانہ، حطیم کعبہ، باب کعبہ اور ابراہیمی بنیاد جیسے سرچ الفاظ فطری طور پر آتے ہیں۔ حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے نزدیک کچھ تبدیلیاں بہتر تھیں، مگر لوگوں کی تازہ حالت کا لحاظ رکھا گیا۔ متن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حطیم کا تعلق کعبہ کی اصل بنا سے تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے کعبہ کے بارے میں اپنی خواہش صاف بیان فرمائی۔
- حطیم کو کعبہ میں شامل کرنے کا ذکر خود حدیث میں آیا ہے۔
- لوگوں کی حالت دیکھ کر بعض کام مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔
