صحیح مسلم حدیث ۳۲۴۲ - کعبہ کی اصل بنیاد کا بیان

کعبہ کی بنیاد اور نبی صلى الله عليه وسلم کی حکمت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۴۲

حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ " ، قَالَت : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ؟ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْت " ، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کہ تم نے نہیں دیکھا کہ جب تمہاری قوم نے کعبہ بنایا تو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا۔“ سو میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! آپ کیوں نہیں پھیر دیتے اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر؟ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اگر تمہاری قوم نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا تو میں البتہ ایسا کرتا۔“سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ بیشک یہ سنا ہو گا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لیے میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھونا ان دونوں کونوں کا اسی واسطے چھوڑ دیا کہ بیت اللہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۲۴۲ کا خلاصہ

یہ حدیث کعبہ کی بنیاد کے بارے میں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ جب قریش نے کعبہ بنایا تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کچھ کم کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ پھر آپ صلى الله عليه وسلم اسے اصل بنیاد پر کیوں نہیں کر دیتے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر قوم ابھی نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو آپ صلى الله عليه وسلم ایسا کر دیتے۔ اس سے کعبہ کی تعمیر، حطیم کعبہ، ابراہیمی بنیاد اور استلام رکن کا مسئلہ سمجھ آتا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی بات سے یہ سمجھا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے حطیم کی طرف والے دونوں کونوں کو اسی لیے نہیں چھوا کہ بیت اللہ مکمل طور پر ابراہیمی بنیاد پر نہیں تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کعبہ کی تعمیر قریش کے دور میں ابراہیمی بنیاد سے کچھ کم ہوئی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک درست کام کو قوم کی حالت دیکھ کر مؤخر رکھا۔
  • حطیم کی طرف والے کونوں کے معاملے میں بنیاد کعبہ کا لحاظ کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں