صحیح مسلم حدیث ۳۵۰۸ - ولیمہ میں دعوت اور دعا

ولیمہ کی دعوت: کھانے پر دعا اور مہمانوں کا ادب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۰۸

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ، أَهْدَتْ لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ ، فقَالَ أَنَسٌ : فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " ، فَدَعَوْتُ لَهُ مَنْ لَقِيتُ ، فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ ، وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ فَدَعَا فِيهِ ، وَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا ، وَبَقِيَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ سورة الأحزاب آية 53 ، قَالَ قَتَادَةُ : غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ طَعَامًا ، وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّى بَلَغَ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ سورة الأحزاب آية 53 .

انس روایت:

جب نکاح ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے لئے ملیدہ ہدیہ بھیجا ایک برتن میں پتھر کے، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ جو مسلمان تم کو ملے اسے بلا لاؤ۔“ سو میں، جو ملا اسے بلا لایا۔ اور وہ لوگ سب داخل ہونے لگے اور کھانے لگے اور نکلتے جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ کھانے پر رکھا۔ اور دعا کی اور پڑھا اس پر جو اللہ تعالیٰ نے چاہا اور میں نے بھی جو مجھے ملا کسی کو نہ چھوڑا ضرور بلا لایا۔ اور سب نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے اور باہر نکلے۔اور ایک گروہ ان میں سے بیٹھا رہا۔ اور بہت لمبی باتیں کرتا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شرماتے تھے کہ ان کو کچھ کہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ان کو گھر میں چھوڑ دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے وہ آیتیں اتاریں جو اوپر مذکور ہوئیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۵۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر ولیمہ کی دعوت کا ذکر ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے ملیدہ ایک پتھر کے برتن میں ہدیہ بھیجا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جاؤ، جو مسلمان ملے اسے بلا لاؤ۔ انس رضی اللہ عنہ نے جسے پایا اسے بلا لیا۔ لوگ آتے، کھاتے اور نکلتے جاتے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنا ہاتھ کھانے پر رکھا، دعا کی اور جو اللہ نے چاہا پڑھا۔ سب لوگ کھا کر سیر ہوئے۔ پھر ایک گروہ بیٹھا رہا اور لمبی باتیں کرتا رہا۔ نبی صلى الله عليه وسلم ان سے کچھ کہنے میں حیا کرتے تھے، اس لیے باہر تشریف لے گئے اور انہیں گھر میں چھوڑ دیا۔ پھر آیت نازل ہوئی کہ نبی کے گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہو اور دعوت کے وقت بھی آداب کا خیال رکھو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت میں لوگوں کو کھانا کھلانا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
  • کھانے پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دعا کی، جیسا حدیث میں بیان ہوا۔
  • مہمان کو دعوت کے بعد دیر تک بیٹھ کر میزبان پر بوجھ نہیں بننا چاہیے۔
  • آیت حجاب میں اجازت اور گھر کے آداب کا حکم بیان ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں