صحیح مسلم حدیث ۳۵۲۳ - برا ولیمہ کس کو کہا گیا؟
برا ولیمہ کون سا ہے؟ حدیث کی آسان وضاحت
صحیح مسلم : ۳۵۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۲۳
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وعَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : شَرُّ الطَّعَامِ : طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ ،
ابوہریرہ روایت:
سب سے برا کھانا ولیمے کا کھانا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۲۳ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختصر الفاظ میں بیان ہے کہ سب سے برا کھانا ولیمے کا کھانا ہے۔ یہ بات پچھلی روایت کے مضمون کے مطابق ہے، یعنی ایسا ولیمہ جس میں امیر لوگوں کو بلایا جائے اور مساکین کو چھوڑ دیا جائے۔ یہاں اصل توجہ کھانے کی ذات پر نہیں بلکہ دعوت کے انداز پر ہے۔ ولیمہ کی حدیث ہمیں یہ سوچ دیتی ہے کہ شادی کی خوشی میں معاشرتی انصاف اور نرم دلی کا خیال رہے۔ اگر دعوت صرف حیثیت، شہرت یا فائدے کے حساب سے ہو تو یہ رویہ حدیث کی تنبیہ کے قریب آ جاتا ہے۔ اس لیے ولیمہ کو سادگی، خیر خواہی اور سب کے خیال کے ساتھ ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولیمہ کا اصل حسن لوگوں کو خوشی میں شریک کرنا ہے۔
- دعوت میں صرف مال دار طبقے کو اہمیت دینا درست طرز نہیں۔
- مختصر روایت بھی بڑے معاشرتی پیغام کو واضح کر سکتی ہے۔
