حدیث ۳۵۲۲
صحیح مسلم : ۳۵۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۲۲
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، قَالَ : قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، كَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ ، فَضَحِكَ فقَالَ : لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَكَانَ أَبِي غَنِيًّا ، فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ ، فقَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : شَرُّ الطَّعَامِ : طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ ،
سفیان رحمہ اللہ نے کہا: میں نے زہری سے پوچھا کہ یہ حدیث کیونکہ ہے کہ بدتر سب کھانوں سے کھانا امیروں کا ہے؟ سو وہ ہنسے اور انہوں نے کہا کہ وہ کھانا بدتر نہیں ہے اور سفیان نے کہا کہ میرے باپ امیر تھے، اس لیے مجھےاس حدیث سے بڑی پریشانی ہوئی، جب میں نے سنی اور میں نے زہری سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن اعرج نے کہا کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہتے تھےکہ بدتر کھانا اس ولیمہ کا ہے پھر روایت کی مثل روایت مالک کے یعنی جو اوپر گزری کہ جس کی طرف امیر لوگ بلائے جائیں اور مساکین نہ بلائے جائیں۔
