صحیح مسلم حدیث ۳۹۴۲ - زمین کرایہ چھوڑنے کا واقعہ
زمین کرایہ حدیث: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل
صحیح مسلم : ۳۹۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۴۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَأْجُرُ الْأَرْضَ ، قَالَ : فَنُبِّئَ حَدِيثًا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ بِي مَعَهُ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَذَكَرَ عَنْ بَعْضُ عُمُومَتِهِ ذَكَرَ فِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " ، قَالَ : فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ ، فَلَمْ يَأْجُرْهُ .
نافع روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما زمین کرایہ پر لیا کرتے پھر ان کو خبر دی گئی ایک حدیث کی رافع سے۔ نافع نے کہا: وہ مجھ کو لے کر ان کے پاس گئے پھر رافع نے اپنے چچاؤں سے نقل کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا زمین کے کرایہ سے۔ نافع نے کہا: تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چھوڑ دیا کرایہ لینا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۴۲ کا خلاصہ
اس روایت میں زمین کرایہ حدیث کا ایک صاف پہلو سامنے آتا ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما زمین کرایہ پر لیا کرتے تھے۔ پھر انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث کی خبر دی گئی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما خود نافع کو ساتھ لے کر رافع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے چچاؤں کے واسطے سے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے زمین کے کرایہ سے منع فرمایا۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام چھوڑ دیا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ جب کسی صحابی کو نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم پہنچا تو انہوں نے اپنے سابقہ عمل پر اصرار نہیں کیا۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ دین میں اپنی عادت سے بڑھ کر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بات کو جگہ دی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم معلوم ہو جائے تو اپنی عادت بدلنی چاہیے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حدیث کی تحقیق کے لیے اصل راوی تک جاتے تھے۔
- زمین کرایہ کے معاملے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے احتیاط اختیار کی۔
