صحیح مسلم حدیث ۳۹۴۴ - نئے حکم کے خوف سے احتیاط

زمین کرایہ حدیث: ابن عمر رضی اللہ عنہما کی احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۴۴

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يُكْرِي أَرَضِيهِ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ خَدِيجٍ ، مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ ؟ قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ : سَمِعْتُ عَمَّيَّ ، وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا ، يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى ، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ .

سالم بن عبداللہ بن عمر روایت:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینوں کو کرایہ پر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ ان کو خبر پہنچی کہ سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ اس سے منع کرتے ہیں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور کہا: اے خدیج کے بیٹے! تم کیا حدیث بیان کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کے کرایہ پر دینے میں۔رافع بن خدیج نے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا اور وہ بدر کی لڑائی میں شریک تھے وہ گھر والوں سے حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا زمین کو کرایہ پر دینے سے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں زمین کرایہ پر دی جاتی تھی، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ڈرے ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم دیا ہو جس کی خبر ان کو نہ ہوئی ہو تو انہوں نے چھوڑ دیا زمین کو کرایہ پر دینا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۹۴۴ کا خلاصہ

یہ روایت زمین کرایہ حدیث کے موضوع پر بہت اہم انداز دکھاتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینیں کرایہ پر دیا کرتے تھے۔ جب انہیں خبر ملی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ اس سے منع کرتے ہیں تو وہ خود ان سے ملے۔ رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کے دو چچا، جو بدر میں شریک تھے، گھر والوں کو حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں زمین کرایہ پر دی جاتی تھی، مگر پھر انہیں یہ ڈر ہوا کہ شاید بعد میں کوئی نیا حکم آیا ہو جو انہیں معلوم نہ ہو سکا۔ اسی احتیاط کی وجہ سے انہوں نے زمین کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نئے علم کے سامنے اپنی رائے روک لیتے تھے۔
  • دینی معاملے میں احتیاط، خاص طور پر حدیث ملنے کے بعد، اہم ہے۔
  • کسی مسئلے میں سابقہ عمل ہو تو بھی نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم کی خبر ملنے پر غور ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں