صحیح مسلم حدیث ۳۹۴۵ - محاقلہ اور زمین کا کرایہ

محاقلہ کی حدیث: زمین کرایہ اور اطاعت کا سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۴۵

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ ، وَالرُّبُعِ ، وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى ، فَجَاءَنَا ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مَنْ عُمُومَتِي ، فَقَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا ، نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ ، فَنُكْرِيَهَا عَلَى الثُّلُثِ ، وَالرُّبُعِ ، وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى ، وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا ، أَوْ يُزْرِعَهَا ، وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ " .

رافع بن خدیج روایت:

ہم محاقلہ کیا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو کرایہ پر دیتے زمین کو ثلث اور ربع پیداوار پر اور معین اناج کے اوپر۔ ایک روز ہمارے پاس کوئی چچاؤں میں سے آیا اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہم کو اس کام سے جس میں ہمارا فائدہ تھا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی خوشی میں ہم کو زیادہ فائدہ ہے، منع کیا ہم کو محاقلہ سے یعنی زمین کو کرایہ پر چلانے سے ثلث یا ربع پیداوار پر اور حکم فرمایا:”زمین کا مالک خود اس میں کھیتی کرے یا دوسرے کو کھیتی کے لیے دے“ اور برا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرایہ پر دینا یا اور کسی طرح پر۔

صحیح مسلم حدیث ۳۹۴۵ کا خلاصہ

اس روایت میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں وہ محاقلہ کیا کرتے تھے۔ یعنی زمین کو تیسرے یا چوتھے حصے کی پیداوار پر، یا کسی معین اناج کے بدلے کرایہ پر دیتے تھے۔ پھر ایک چچا آئے اور بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس کام سے منع فرمایا، اگرچہ اس میں انہیں فائدہ محسوس ہوتا تھا۔ مگر انہوں نے صاف کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع والی ہے۔ اس حدیث میں اصل بات محاقلہ کی ممانعت، زمین کے مالک کو خود کھیتی کرنے یا کسی کو کھیتی کے لیے دینے کا حکم، اور کرایہ کی ایسی صورت سے بچنا ہے جس کا متن میں ذکر ہے۔ زمین کرایہ حدیث، محاقلہ کی حدیث اور مزارعت کے مسئلے کو سمجھتے ہوئے اسی بیان تک رہنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظاہری نفع کے مقابلے میں اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی اطاعت کو ترجیح دینی چاہیے۔
  • اس روایت میں تیسرے یا چوتھے حصے پر زمین دینے سے منع کیا گیا ہے۔
  • زمین کا مالک خود کھیتی کرے یا کسی کو کھیتی کے لیے دے، یہ بات متن میں آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں