صحیح مسلم حدیث ۳۹۴۹ - کھیت خود کاشت کرو یا دے دو
زمین کرایہ حدیث: خود کاشت کرو یا کسی کو دے دو
صحیح مسلم : ۳۹۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۴۹
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعٍ : أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ ، وَهُوَ عَمُّهُ ، قَالَ : أَتَانِي ظُهَيْرٌ ، فَقَالَ : لَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا ، فَقُلْتُ : وَمَا ذَاكَ ؟ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ ، قَالَ : سَأَلَنِي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ ؟ فَقُلْتُ : نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَى الرَّبِيعِ ، أَوِ الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ ، أَوِ الشَّعِيرِ ، قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا ، ازْرَعُوهَا ، أَوْ أَزْرِعُوهَا ، أَوْ أَمْسِكُوهَا " .
رافع روایت:
ظہیر بن رافع نے ان سے ایک حدیث بیان کی اور ظہیر رافع کے چچا تھے۔ رافع نے کہا: ظہیر بن رافع میرے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ایسے کام سے جس میں ہمارا فائدہ تھا۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ حق ہے۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا:”تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو۔“ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کو کرایہ پر چلاتے ہیں اور وہ کرایہ یہ ہے کہ نہر پر جو پیداوار ہو اس کو لیتے ہیں یا چند وسق کھجور کے یا جو کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایسا مت کرو یا تم خود ان میں کھیتی کرو یا دوسروں کو کھیتی کے لئے دو بلا کرایہ یا یوں ہی رہنے دو۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۴۹ کا خلاصہ
اس روایت میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے چچا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ان کے لیے فائدہ مند تھا۔ جب پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ کھیتوں کو ایسے کرایہ پر دیتے تھے کہ نہر کے کنارے کی پیداوار یا چند وسق کھجور یا جو کرایہ بن جاتا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو؛ یا خود کھیتی کرو، یا دوسروں کو کھیتی کے لیے دے دو، یا زمین اپنے پاس رکھو۔ یہ حدیث زمین کرایہ حدیث کے موضوع پر بہت واضح انداز رکھتی ہے۔ اس میں خاص طور پر وہ صورت بیان ہوئی ہے جس میں کرایہ پیداوار کے مخصوص حصے یا متعین پیداوار سے وابستہ تھا۔ شرح کو اسی متن تک محدود رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بات کو حق سمجھ کر قبول کرنا چاہیے۔
- اس روایت میں نہر کے کنارے کی پیداوار جیسے کرایہ سے منع کیا گیا ہے۔
- متن کے مطابق زمین کے لیے تین راستے بتائے گئے: خود کاشت، کسی کو دینا، یا روک رکھنا۔
