صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۳ - اولاد کو برابر دینا

اولاد کو برابر دینا: ہبہ میں عدل کی صاف تعلیم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۸۳

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَكَ بَنُونَ سِوَاهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ هَذَا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .

نعمان بن بشیر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اور بھی تیرے بیٹے ہیں؟“ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور بیٹوں کو بھی تو نے ایسا ایسا ہی دیا ہے۔ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر میں گواہ نہیں ہوتا ظلم پر۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں بات مختصر ہے، مگر پیغام بہت واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے بیٹے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا سب بیٹوں کو اسی طرح دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ اس روایت سے اولاد میں انصاف کی حدیث کا بنیادی سبق سامنے آتا ہے کہ ہبہ یا عطیہ دیتے وقت ایک بچے کو خاص کرنا اور باقی کو چھوڑ دینا درست نہیں۔ یہاں صرف مال کا مسئلہ نہیں، بلکہ گھر کے ماحول، بچوں کے دلوں اور والدین کے رویے کا معاملہ بھی ہے۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ گواہی بھی اسی بات پر ہونی چاہیے جو حق کے قریب ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اولاد میں ہبہ کرتے وقت سب بچوں کا خیال رکھا جائے۔
  • ایک بچے کو دے کر دوسروں کو محروم کرنا ظلم کے معنی میں آیا ہے۔
  • حق کے خلاف بات پر گواہ بننا درست نہیں۔
  • والدین کے مالی فیصلوں میں عدل نمایاں ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں