صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۶ - بچوں میں برابری کا حکم
بچوں میں برابری: ہبہ دیتے وقت عدل کا سادہ اصول
صحیح مسلم : ۴۱۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۸۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا ثُمَّ أَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ ، فَقَالَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ هَذَا ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : أَلَيْسَ تُرِيدُ مِنْهُمُ الْبِرَّ مِثْلَ مَا تُرِيدُ مِنْ ذَا ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَحَدَّثْتُ بِهِ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ : إِنَّمَا تَحَدَّثْنَا ، أَنَّهُ قَالَ : قَارِبُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ " .
نعمان بن بشیر روایت:
میرے باپ نے مجھ کو ہبہ کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنے سب لڑکوں کو ایسا ہی دیا ہے۔“؟ میرا باپ بولا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نہیں چاہتا کہ تیرے سب لڑکے نیک ہوں جیسے اس لڑکے کو چاہتا ہے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برابر کرو اپنی اولاد کو دینے میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۶ کا خلاصہ
اس روایت میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں ہبہ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانے کے لیے لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے سب لڑکوں کو ایسا ہی دیا ہے؟ والد نے کہا نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نہیں چاہتے کہ تمہارے سب لڑکے نیک ہوں جیسے اس لڑکے کے لیے چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی اولاد کو دینے میں برابر کرو۔ یہ حدیث اولاد میں انصاف، ہبہ کی حدیث، اور والدین کے رویے کے لیے بہت آسان رہنمائی دیتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب والدین سب بچوں سے اچھا سلوک چاہتے ہیں تو عطیہ اور مال کے معاملے میں بھی سب کے ساتھ برابر رویہ رکھیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اولاد کو دینے میں برابری کا حکم واضح طور پر آیا ہے۔
- والدین کو سب بچوں سے نیکی کی خواہش ہوتی ہے، اس لیے ان کے ساتھ عدل بھی ہونا چاہیے۔
- ہبہ میں ایک بچے کو خاص کرنے سے بچنا چاہیے۔
- گھر کے مالی معاملات میں نیکی اور انصاف ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
