صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۱ - اولاد میں انصاف کی حدیث
اولاد میں انصاف: ہبہ دیتے وقت برابر رویہ کیوں ضروری ہے؟
صحیح مسلم : ۴۱۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۸۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : " تَصَدَّقَ عَلَيَّ أَبِي بِبَعْضِ مَالِهِ ، فَقَالَتْ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى صَدَقَتِي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِكُمْ " فَرَجَعَ أَبِي فَرَدَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ .
نعمان بن بشیر روایت:
میرے باپ نے کچھ مال اپنا مجھے ہبہ کیا۔ میری ماں عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا بولی: میں جب خوش ہوں گی تو اس پر گواہ کر دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ میرا باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنی سب اولاد کو ایسا ہی دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور انصاف کرو اپنے مال میں۔“ پھر میرے باپ نے وہ ہبہ پھیر لیا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اولاد میں انصاف ہے۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو ان کے والد نے اپنے مال میں سے کچھ ہبہ کیا۔ والدہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ بنایا جائے۔ جب بشیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہ پوچھا کہ کیا سب اولاد کو ایسا ہی دیا ہے؟ جواب نہیں تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کو ہبہ دیتے وقت ایک کو خاص کر کے دوسروں کو چھوڑ دینا درست رویہ نہیں۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ والد نے وہ ہبہ واپس لے لیا، یعنی غلط بات پر اصرار نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اولاد کو مال دیتے وقت انصاف کا خیال رکھنا چاہیے۔
- گواہی لینے سے پہلے معاملہ حق اور انصاف کے مطابق ہونا چاہیے۔
- غلط ہبہ معلوم ہو جائے تو اسے واپس لینا بہتر راستہ ہو سکتا ہے۔
- اللہ سے ڈرنا گھریلو مالی معاملات میں بھی ضروری ہے۔
