صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۵ - نیکی میں برابری کی خواہش

اولاد سے نیکی چاہتے ہو تو ہبہ میں بھی انصاف کرو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۸۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ جميعا ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا مِنْ مَالِي ، فَقَالَ : أَكُلَّ بَنِيكَ قَدْ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ النُّعْمَانَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ، ثُمَّ قَالَ : أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَلَا إِذًا " .

نعمان بن بشیر روایت:

میرے باپ مجھ کو اٹھا کر لے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا کہ یا رسول اللہ! آپ گواہ رہیے کہ میں نے نعمان کو فلاں فلاں چیز اپنے مال میں سے ہبہ کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا سب بیٹوں کو تو نے ایسا ہی دیا ہے۔ جیسے نعمان کو دیا ہے۔“ میرے باپ نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر مجھ کو گواہ نہ کر اور کسی کو کر لے۔“ بعد اس کے فرمایا: ”کیا تو خوش ہے اس سے کہ سب برابر ہوں تیرے ساتھ نیکی کرنے میں۔“ میرا باپ بولا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر ایسا مت کر۔“ (یعنی ایک کو دے، ایک کو نہ دے)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں اولاد میں انصاف کا ایک بہت سمجھ آنے والا پہلو بیان ہوا ہے۔ بشیر رضی اللہ عنہ نے نعمان رضی اللہ عنہ کو اپنے مال میں سے کچھ ہبہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا سب بیٹوں کو بھی ایسا ہی دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی اور کو گواہ بنا لو، اور ساتھ ہی ایک اہم سوال کیا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ سب بچے تمہارے ساتھ نیکی کرنے میں برابر ہوں؟ انہوں نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا نہ کرو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین جب اولاد سے اچھے رویے کی امید رکھتے ہیں تو انہیں اپنے فیصلوں میں بھی انصاف دکھانا چاہیے۔ ہبہ میں برابری بچوں کے دلوں میں سکون کا سبب بن سکتی ہے، مگر حدیث کا اصل زور عدل پر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • والدین کو اولاد سے نیکی کی امید کے ساتھ خود بھی انصاف کرنا چاہیے۔
  • ایک بچے کو خاص ہبہ دینا اور باقی کو چھوڑنا مناسب نہیں بتایا گیا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے پر گواہ بننے سے گریز فرمایا۔
  • بچوں کے ساتھ مالی رویہ عدل پر مبنی ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں