صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۷ - حق پر گواہی کی حدیث

میں حق ہی پر گواہ بنتا ہوں: اولاد میں ہبہ کا انصاف

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۸۷

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ : " انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي ، وَقَالَتْ أَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلَهُ إِخْوَةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی عورت نے اپنے خاوند سے کہا: یہ غلام میرے بیٹے کو ہبہ کر دے اور گواہ کر دے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی کہ فلاں کی بیٹی نے مجھ سے یہ کہا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کروں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے اور بھی بھائی ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ان سب کو یہی دیا ہے جو اس کو دیا؟“ وہ بولا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو یہ درست نہیں اور میں تو گواہ نہیں بنوں گا مگر حق پر۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا کہ اپنا غلام میرے بیٹے کو ہبہ کر دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا دیں۔ بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا اس کے اور بھی بھائی ہیں؟ جواب ہاں تھا۔ پھر پوچھا کہ کیا سب کو یہی دیا ہے؟ جواب نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ درست نہیں، اور میں حق کے سوا کسی چیز پر گواہ نہیں بنتا۔ اس حدیث میں ہبہ، اولاد میں انصاف، اور حق پر گواہی تینوں باتیں ساتھ آتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف گواہی سے انکار نہیں کیا، بلکہ یہ بھی بتایا کہ معاملہ درست ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک بچے کو خاص مال یا غلام دے کر باقی بھائیوں کو چھوڑنا درست نہیں بتایا گیا۔
  • گواہی حق پر ہونی چاہیے، ناانصافی پر نہیں۔
  • ہبہ کے معاملے میں سب اولاد کا حق دیکھا جائے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مالی معاملے میں بھی عدل کی تعلیم دی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں