صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۲ - ظلم پر گواہی نہیں

ظلم پر گواہی نہیں: اولاد میں ہبہ کا انصاف

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۸۲

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ : " أَنَّ أُمَّهُ بِنْتَ رَوَاحَةَ سَأَلَتْ أَبَاهُ بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ لِابْنِهَا ، فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً ثُمَّ بَدَا لَهُ ، فَقَالَتْ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا وَهَبْتَ لِابْنِي ، فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى الَّذِي وَهَبْتُ لِابْنِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بَشِيرُ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَكُلَّهُمْ وَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ هَذَا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .

نعمان بن بشیر روایت:

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان کی ماں بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے ان کے باپ سے سوال کیا کہ اپنے مال میں سے کچھ ہبہ کر دیں، ان کے بیٹے کو (یعنی نعمان کو) لیکن بشیر نے ایک سال ٹالا۔ پھر وہ مستعد ہوئے ہبہ کرنے کو، ان کی ماں بولی: میں راضی نہیں ہوں گی جب تک تم گواہ نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ہبہ پر، میرے باپ نے میرا ہاتھ پکڑا۔ اور میں ان دونوں لڑکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی ماں بنت رواحہ نے جو یہ چاہا کہ آپ گواہ ہو جائیں اس ہبہ پر جو میں نے اس لڑکے کو کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بشیر! کیا سوا اس کے اور بھی تیرے لڑکے ہیں؟“ بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو بھی تو نے ایسا ہی ہبہ کیا ہے؟“ بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر مجھے گواہ مت کر کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں ہوتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں اولاد میں انصاف کا حکم بہت صاف انداز میں سامنے آتا ہے۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی والدہ نے چاہا کہ ان کے بیٹے کو مال میں سے ہبہ دیا جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنایا جائے۔ جب بشیر رضی اللہ عنہ نعمان رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے اس کے علاوہ بھی بچے ہیں؟ پھر پوچھا کہ کیا سب کو ایسا ہی دیا ہے؟ جب انہوں نے کہا نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں ہوتا۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ اولاد کو عطیہ دینے میں برابری کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔ صرف محبت یا کسی کے کہنے پر ایک بچے کو خاص کر دینا درست نہیں، جب تک باقی اولاد کا حق نظر انداز نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غیر برابر ہبہ کو حدیث میں جور یعنی ظلم کہا گیا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم پر گواہ بننے سے انکار فرمایا۔
  • والدین کو ہر بچے کے معاملے میں انصاف کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • مالی فیصلوں میں جذبات کے ساتھ عدل بھی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں