صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۴ - ظلم پر گواہ نہ بناؤ

مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ: اولاد میں ہبہ کا اصول

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۸۴

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِأَبِيهِ لَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ " .

نعمان بن بشیر روایت:

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے باپ سے ”مت گواہ کر مجھ کو ظلم پر۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۴ کا خلاصہ

یہ روایت بہت مختصر ہے، لیکن اولاد میں انصاف کے موضوع پر ایک مضبوط بات بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے والد سے فرمایا کہ مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ۔ اس کا تعلق اسی معاملے سے ہے کہ ایک بچے کو ہبہ دیا جا رہا تھا اور باقی اولاد کو وہی نہیں دیا گیا تھا۔ حدیث کے الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ گواہی کوئی معمولی چیز نہیں۔ جب معاملہ انصاف کے خلاف ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر گواہ بننا پسند نہیں فرمایا۔ اس سے والدین کے لیے واضح رہنمائی ہے کہ اولاد کو مال دینے میں جذبات، پسند یا کسی ایک کی خواہش کافی نہیں، بلکہ عدل ضروری ہے۔ ہبہ کی حدیث کا یہ جملہ گھر کے اندر انصاف کی بڑی بنیاد بن سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظلم پر گواہی دینا درست طریقہ نہیں۔
  • اولاد کے درمیان ہبہ میں ناانصافی سے بچنا چاہیے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کے خلاف معاملے کو قبول نہیں فرمایا۔
  • مالی معاملات میں انصاف گھر سے شروع ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں