صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۰ - اولاد میں برابر عطیہ
اولاد میں برابر عطیہ: والدین کے لیے حدیث کا سبق
صحیح مسلم : ۴۱۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۸۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : " وَقَدْ أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلَامًا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذَا الْغُلَامُ ؟ قَالَ : أَعْطَانِيهِ أَبِي ، قَالَ : فَكُلَّ إِخْوَتِهِ أَعْطَيْتَهُ كَمَا أَعْطَيْتَ هَذَا ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَرُدَّهُ " .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے باپ نے ان کو ایک غلام دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” یہ کیسا غلام ہے؟“، انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ کو دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے باپ سے کہا: ” کیا تو نے نعمان کے سب بھائیوں کو ایسا ہی غلام دیا ہے جیسا نعمان کو دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے پھیر لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۸۰ کا خلاصہ
اس روایت میں واقعہ ایک سوال جواب کی صورت میں آیا ہے۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو ان کے والد نے ایک غلام دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ غلام کیسا ہے؟ بتایا گیا کہ والد نے دیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے والد سے پوچھا کہ کیا نعمان کے سب بھائیوں کو بھی ایسا ہی غلام دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے واپس لے لو۔ اس حدیث میں اولاد کے درمیان عطیہ میں انصاف کا سبق بہت واضح ہے۔ اگر ایک بچے کو دیا جا رہا ہے تو دوسرے بچوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ محبت نہ کرو، بلکہ عملی عطیہ کے معاملے میں پوچھا گیا کہ کیا سب کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اولاد میں انصاف کی حدیث والدین کے لیے بہت اہم یاد دہانی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اولاد کو عطیہ دیتے وقت برابری اور انصاف کا خیال رکھنا چاہیے۔
- کسی ایک بچے کو خاص تحفہ دے کر باقی کو محروم کرنا پسندیدہ طریقہ نہیں۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے عطیہ کو واپس لینے کا حکم دیا جب باقی بچوں کو ایسا نہ دیا گیا۔
