صحیح مسلم حدیث ۴۲۶۳ - بہتر کام ملے تو قسم کا کفارہ دے کر وہی کام کیا جائے
قسم کا کفارہ: جب بہتر کام سامنے آ جائے
صحیح مسلم : ۴۲۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۶۳
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِخَلَفٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا ، أَوَ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلَنَا فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور چند اشعریوں کے ساتھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگنے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم کو سواری نہیں دوں گا۔ اور میرے پاس کوئی سواری نہیں جو تم کو دوں۔“ پھر ٹھہرے رہے ہم جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہم کو سفید کوہان کے تین اونٹ دینے کا۔جب ہم چلے تو ہم نے کہا یا بعض نے ہم سے کہا: اللہ تعالیٰ برکت نہ دے ہم کو۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سواری مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی ہم کو سواری نہ ملے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو سواری دی۔ لوگوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو سوار نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سوار کیا۔ اور میں تو اگر اللہ چاہے کسی بات کی قسم نہ کھاؤں گا۔ پھر اس سے بہتر دوسرا کام دیکھوں گا۔ مگر اپنی قسم کا کفارہ دوں گا اور وہ کام کروں گا جو بہتر ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں قسم کا کفارہ اور بہتر کام اختیار کرنے کی تعلیم بہت صاف لفظوں میں آئی ہے۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ چند اشعری ساتھیوں کے ساتھ سواری مانگنے آئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری نہ تھی، اس لیے آپ نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔ بعد میں اونٹ آئے تو آپ نے انہیں سواری دی۔ جب بات یاد دلائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ میں کسی بات کی قسم کھاؤں، پھر اس سے بہتر کام دیکھوں، تو اپنی قسم کا کفارہ دوں گا اور وہ کام کروں گا جو بہتر ہے۔ یہ حدیث سکھاتی ہے کہ ضد میں قسم پر جمے رہنا مقصود نہیں، بلکہ بہتر اور درست کام کو اختیار کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قسم کے بعد بہتر کام سامنے آئے تو بہتر کام کیا جا سکتا ہے۔
- ایسی صورت میں قسم کا کفارہ دینے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- کسی ضرورت مند کی مدد، موجودگی اور استطاعت کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔
