حدیث ۴۲۶۴
صحیح مسلم : ۴۲۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۶۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ لَهُمُ الْحُمْلَانَ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ ، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ ، فَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، فَأَجَبْتُهُ ، فَقَالَ : أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ ، فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ ، فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ ، أَوَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ فَارْكَبُوهُنَّ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي بِهِنَّ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلْتُهُ لَكُمْ وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُ إِيَّايَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ ، فَقَالُوا لِي : وَاللَّهِ إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ ، فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوْا الَّذِينَ سَمِعُوا ، قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْعَهُ إِيَّاهُمْ ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ فَحَدَّثُوهُمْ بِمَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى سَوَاءً " .
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میرے ساتھیوں نے مجھ کو بھیجا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے کو۔ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے جیش العسرہ یعنی غزوۂ تبوک میں۔ میں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! میرے ساتھیوں نے مجھے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم کو سواری نہ دوں گا۔“ اور اتفاق سے جب میں نے یہ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں تھے، مجھے معلوم نہ تھا۔ میں رنجیدہ ہو کر لوٹا اور دو باتوں کا مجھ کو رنج تھا۔ ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار سے اور دوسرا اس خیال سے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے رنج نہ ہوا ہو۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہہ سنایا۔ تھوڑی دیر میں ٹھہرا تھا کہ بلال رضی اللہ عنہ کی آواز میں نے سنی عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ (یہ نام ہے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا) کون ہے؟ میں نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا: چل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے بلاتے ہیں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جوڑا لے اور یہ جوڑا اور یہ جوڑا اونٹوں کا سب چھ اونٹ جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ سے خریدا تھا۔ اور ان کو لے جا اپنے ساتھیوں کے پاس اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا اس کے رسول نے یہ سواری تم کو دی ہے۔ تو سوار ہو اس پر۔“ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ اونٹ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا۔ اور ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو یہ سواریاں دی ہیں۔ لیکن میں تم کو نہیں چھوڑوں گا جب تک تم میں سے کچھ لوگ میرے ساتھ نہ چلیں ان لوگوں کے پاس جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا انکار سنا ہے۔ پھر دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد تم یہ گمان نہ کرنا میں نے تم سے وہ کہہ دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا (چونکہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے سواری دینے کا انکار کیا اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا۔ بعد اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواریاں دیں تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ڈرے کہیں میرے یار یہ نہ سمجھیں کہ اس نے اپنی طرف سے بات بنا لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار نہ کیا ہو گا اس لیے مقابلہ کرانا چاہا) میرے ساتھیوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہمارے نزدیک سچے ہو اور جو تم چاہتے ہو ہم ویسا ہی کریں گے۔ (یعنی تمہارے ساتھ چلیں گے) پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ان میں سے کئی آدمیوں کو لے کر گئے ان لوگوں کے پاس جنہوں نے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار اور بعد اس کے دینا دیکھا تھا۔ اور ان لوگوں نے ویسا ہی بیان کیا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے یاروں سے جیسے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا تھا۔
