صحیح مسلم حدیث ۴۲۶۶ - اسی واقعے کی دوسری سند: قسم کے بعد بہتر کام

قسم کا کفارہ: ایک ہی تعلیم کئی سندوں سے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۶۶

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۲۶۶ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلے واقعے ہی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ متن میں ذکر ہے کہ جرم قبیلے اور اشعریوں کے درمیان محبت اور بھائی چارہ تھا، اور وہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ ان کے سامنے کھانا لایا گیا جس میں مرغ کا گوشت تھا، پھر وہی واقعہ بیان ہوا جس میں ایک شخص نے قسم کی وجہ سے کھانے سے رکاوٹ محسوس کی۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور سواری والے واقعے کے ذریعے سمجھایا کہ قسم کے بعد اگر بہتر کام سامنے آئے تو بہتر کام کیا جائے۔ یہ حدیث قسم کا کفارہ، بہتر کام اور بات سمجھانے کے نرم انداز کو سامنے لاتی ہے۔ چونکہ روایت میں “نحوہ” یعنی اسی جیسا مضمون آیا ہے، اس لیے اصل زور اسی تعلیم پر ہے جو پچھلی حدیث میں گزری۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی نبوی تعلیم مختلف سندوں سے نقل ہو سکتی ہے۔
  • قسم کے بعد بہتر کام سامنے آئے تو بہتر راستہ اختیار کیا جائے۔
  • بات سمجھاتے وقت پہلے مثال اور دلیل پیش کرنا مفید ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں