صحیح مسلم حدیث ۴۴۸۲ - اللہ کے غضب والی تین باتیں
اللہ کو ناپسند تین کام: فضول بات، کثرت سوال اور مال کا ضیاع
صحیح مسلم : ۴۴۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۸۲
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا وَلَمْ يَذْكُرْ وَلَا تَفَرَّقُوا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں یہ ہے کہ تین باتوں سے غصہ ہوتا ہے اور پھوٹ کا بیان نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۸۲ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے، مگر اس میں “ناخوش” کے بجائے تین باتوں پر غضب کا ذکر آیا ہے، اور “پھوٹ مت ڈالو” کا جملہ یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان کو اپنی زبان، سوالات اور مال کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔ بے فائدہ گفتگو انسان کو ایسے کاموں میں لگا دیتی ہے جن سے نہ دین کا فائدہ ہوتا ہے نہ دنیا کا۔ بہت زیادہ غیر ضروری سوالات بھی پسندیدہ نہیں، خاص طور پر وہ سوال جو حاجت کے بغیر ہوں۔ اسی طرح مال ضائع کرنا بھی ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس حدیث کے لیے عام سرچ الفاظ “کثرت سوال حدیث”، “قیل و قال حدیث” اور “مال ضائع کرنے کی حدیث” ہیں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین صرف عبادت نہیں بلکہ روزمرہ عادتوں کی درستگی بھی چاہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بے فائدہ باتوں سے بچنا ایمان دارانہ زندگی کا حصہ ہے۔
- غیر ضروری سوالات سے احتیاط کرنی چاہیے۔
- مال کو بے مقصد خرچ یا ضائع کرنا ناپسندیدہ ہے۔
- ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے بھی نقل ہو سکتا ہے۔
