صحیح مسلم حدیث ۴۵۳۳ - دغا باز کی پہچان قیامت میں
دغا باز کی پہچان: قیامت کے دن اعلان
صحیح مسلم : ۴۵۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۳۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۳۳ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہر دغا باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا، کہا جائے گا کہ یہ فلانے کی دغا ہے۔ اس حدیث میں دغا بازی کو چھپ جانے والا عمل نہیں بتایا گیا۔ قیامت کے دن جھنڈا اور اعلان دونوں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عہد شکنی انسان کے ساتھ پہچان بن کر سامنے آ سکتی ہے۔ یہاں سبق وعدہ خلافی سے بچنے کا ہے۔ متن ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ دغا کی کون کون سی صورتیں ہیں، اس لیے غیر ضروری فہرست نہیں بنائی جائے گی۔ جو بات موجود ہے وہ یہ ہے کہ دغا باز کی دغا ظاہر کی جائے گی۔ اس لیے آدمی کو معاملات، وعدوں اور ذمہ داریوں میں صاف رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دغا باز کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا۔
- اس کی دغا کا اعلان کیا جائے گا۔
- عہد اور وعدے میں صاف رہنا ضروری سبق کے طور پر سامنے آتا ہے۔
