صحیح مسلم حدیث ۵۶۸ - ایڑیوں کی خشکی پر نبوی تنبیہ
ایڑیوں کی خشکی پر تنبیہ اور وضو کا اہتمام
صحیح مسلم : ۵۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ، أَوْ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي جَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَابِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
سالم روایت:
میں اور سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس سے گزرے۔ باقی گزشتہ حدیث کی طرح بیان کی۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۸ کا خلاصہ
اس روایت میں سالم بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک تھے، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس سے گزرے۔ آگے وہی مضمون بیان ہوا کہ وضو پورا کیا جائے اور ایڑیوں کے بارے میں سخت تنبیہ ہے۔ وضو میں ایڑی خشک رہ جانے کی حدیث مسلمان کو دھیان دلاتی ہے کہ پاؤں دھونا صرف پانی لگا دینے کا نام نہیں۔ ایڑی، پاؤں کے کنارے اور وہ جگہیں جہاں پانی کم پہنچتا ہے، وہاں خاص خیال چاہیے۔ یہ روایت عملی زندگی میں وضو کی اصلاح کا واضح سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وضو میں پاؤں اور ایڑیوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔
- وضو کے دوران جلدی سے بعض جگہیں خشک رہ سکتی ہیں، اس لیے احتیاط چاہیے۔
- دین کی بات موقع پر یاد دلانا مفید عمل ہے۔
- وضو کو پورا کرنا عبادت کی تیاری کا اہم حصہ ہے۔
