صحیح مسلم حدیث ۵۶۹ - وضو میں ایڑیوں کا خیال
وضو میں ایڑیوں کا خیال رکھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۹
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَذَكَرَ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
سالم روایت:
میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا باقی پہلے والی حدیث بیان کی۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سالم، جو شداد بن الہاد کے مولیٰ تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود ہونے کا ذکر کرتے ہیں اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی روایت بیان کرتے ہیں جس میں ایڑیوں کے لیے آگ کی تنبیہ آئی ہے۔ وضو میں ایڑیوں کا خیال رکھنے کی حدیث بہت عملی ہے، کیونکہ وضو کرتے وقت پاؤں کے پیچھے والا حصہ کبھی جلدی میں رہ جاتا ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کو مکمل کرنا ضروری ہے اور اسے معمولی کام سمجھ کر جلدی میں نہیں کرنا چاہیے۔ مسلمان کو چاہیے کہ پاؤں دھوتے وقت پانی کو ایڑیوں تک پہنچائے اور وضو کے ہر حصے کو اطمینان سے ادا کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وضو میں ایڑیوں تک پانی پہنچانا خاص توجہ کا کام ہے۔
- جلد بازی وضو میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔
- نبوی تنبیہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
- وضو کی درستگی کے لیے پاؤں کو اچھی طرح دھونا چاہیے۔
