صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۸ - مسلمان ایک شخص کی طرح

مومن ایک شخص کی طرح: سر دکھے تو پورا جسم بے چین

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۸۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں مومنوں کو ایک آدمی کی طرح بتایا گیا ہے۔ الفاظ کے مطابق اگر اس کا سر درد کرے تو باقی جسم بھی بخار اور بے خوابی میں شریک ہوتا ہے۔ یہ مثال پچھلی روایات ہی کے مضمون کو ایک اور انداز میں سمجھاتی ہے۔ مومنوں کا تعلق ایسا ہونا چاہیے کہ کسی ایک کی تکلیف دوسروں کے لیے اجنبی خبر نہ بنے۔ حدیث میں مومن، ایک شخص، سر کا درد، بخار، بے خوابی اور باہمی ہمدردی جیسے نکات موجود ہیں۔ عام زندگی میں اس کا مطلب یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ مسلمان بھائی کی پریشانی کو سنجیدگی سے لیا جائے، اسے اکیلا نہ چھوڑا جائے، اور دل میں اس کے لیے خیر خواہی ہو۔ متن میں جسم کی مثال دی گئی ہے، اس لیے ہمیں اسی حد تک رہ کر کہنا چاہیے کہ مومنوں کے درمیان احساس، رحم اور توجہ ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مومنوں کو ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس ہونا چاہیے۔
  • سر کے درد کی مثال بتاتی ہے کہ ایک حصے کی تکلیف باقی جسم کو بھی متاثر کرتی ہے۔
  • باہمی ہمدردی ایمان والوں کے تعلق کا حصہ ہے۔
  • حدیث بے حسی کے بجائے درد مندی کا مزاج سکھاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں