صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۹ - مسلمان ایک بدن کی طرح

مسلمان ایک بدن ہیں: آنکھ دکھے تو سب دکھتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۸۹

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ ، وَإِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۹ کا خلاصہ

اس روایت کے الفاظ میں مسلمانوں کو ایک آدمی کی طرح بتایا گیا ہے۔ اگر اس کی آنکھ میں درد ہو تو پورا وجود درد محسوس کرتا ہے، اور اگر سر میں درد ہو تو بھی سب متاثر ہوتا ہے۔ یہ مثال بہت سادہ ہے، مگر اس کا پیغام صاف اور عملی ہے: مسلمان ایک دوسرے سے کٹے ہوئے نہیں ہونے چاہئیں۔ کسی مسلمان کی تکلیف کو دیکھ کر دل میں احساس، رحم اور مدد کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے۔ حدیث میں مسلمان ایک جسم، آنکھ کا درد، سر کا درد اور باہمی شفقت جیسے سرچ کیے جانے والے موضوعات آتے ہیں۔ یہاں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ حدیث نے مثال جسم کی دی ہے، اس لیے اصل زور احساس اور تعلق پر ہے۔ اپنی زبان، دل اور عمل میں دوسرے مسلمان کے لیے خیر خواہی رکھنا اسی مزاج سے قریب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسلمانوں کے درمیان احساس کا رشتہ ہونا چاہیے۔
  • ایک کی تکلیف کو باقی لوگ بالکل بے تعلق نہ سمجھیں۔
  • آنکھ اور سر کی مثال سے باہمی تعلق آسانی سے سمجھ آتا ہے۔
  • حدیث مسلمانوں کو بے رخی چھوڑنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں