صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۱ - گالی کی ابتدا اور زیادتی
گالی گلوچ میں پہل کرنے والے کا گناہ
صحیح مسلم : ۶۵۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۹۱
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو شخص جب گالی گلوچ کریں تو دونوں کا گناہ اسی پر ہو گا جو ابتدا کرے گا جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع زبان کی حفاظت اور گالی گلوچ سے بچنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دو آدمی ایک دوسرے کو گالیاں دیں تو جو کچھ وہ کہیں اس کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔ اس میں بہت باریک مگر آسان بات ہے۔ کسی جھگڑے میں پہلی گالی دینا گناہ کا دروازہ کھولتا ہے۔ جس پر گالی دی گئی، اس کے لیے بھی حد ہے؛ وہ مظلوم ہے، مگر اگر وہ جواب میں زیادتی کرے تو معاملہ بدل سکتا ہے۔ اس حدیث میں گالی کی ابتدا، زبان کا گناہ، مظلوم کی حد اور بدزبانی سے بچاؤ جیسے موضوعات آتے ہیں۔ عام فہم سبق یہی ہے کہ زبان کو قابو میں رکھا جائے، کیونکہ ایک لفظ جھگڑے کو لمبا کر سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گالی میں پہل کرنا گناہ کا سبب بنتا ہے۔
- مظلوم کو بھی جواب میں زیادتی سے بچنا چاہیے۔
- زبان کا قابو جھگڑے کو بڑھنے سے روک سکتا ہے۔
- حدیث گالی کے معاملے میں ذمہ داری واضح کرتی ہے۔
