صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۲ - صدقہ، معافی اور عاجزی

صدقہ، معافی اور عاجزی کی خوبصورت حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۹۲

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ ، وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا ، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دینے سے کوئی مال نہیں گھٹا اور جو بندہ معاف کر دیتا ہے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں تین صاف باتیں جمع ہیں: صدقہ، معافی اور عاجزی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ دینے سے مال نہیں گھٹتا۔ پھر فرمایا کہ جو بندہ معاف کرتا ہے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔ یہ حدیث بہت مشہور سرچ ہوتی ہے: صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، معاف کرنے کی فضیلت، تواضع کی حدیث، اور عاجزی سے درجہ بلند ہونا۔ یہاں ہمیں وہی کہنا چاہیے جو متن میں ہے۔ صدقہ کے بارے میں حدیث مال کے گھٹنے کی نفی کرتی ہے، معافی کو عزت سے جوڑتی ہے، اور عاجزی کو اللہ کے لیے ہونے کی شرط کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس لیے مسلمان کو دینے، معاف کرنے اور تکبر سے بچنے کی عادت پر توجہ دینی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ دینے سے مال کے گھٹنے کا خوف دل میں نہیں رکھنا چاہیے۔
  • معافی کو حدیث میں عزت کے بڑھنے سے جوڑا گیا ہے۔
  • عاجزی اسی وقت قیمتی ہے جب اللہ کے لیے ہو۔
  • حدیث تین عملی خوبیاں ایک ساتھ سکھاتی ہے: دینا، معاف کرنا، جھکنا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں