صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۴ - عیب پوشی

عیب چھپانے کی حدیث اور قیامت کی امید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۹۴

حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی شخص دنیا میں کسی بندہ کا عیب چھپائے گا اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کا عیب چھپا دے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۴ کا خلاصہ

یہ حدیث عیب پوشی کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں کسی بندے کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا عیب چھپا دے گا۔ متن مختصر ہے مگر پیغام بہت صاف ہے۔ کسی کی غلطی یا کمزوری کو بلا ضرورت لوگوں میں پھیلانا مومن کے اخلاق کے مناسب نہیں۔ عیب چھپانا حدیث، ستر المسلم، عیب پوشی کی فضیلت، اور قیامت میں پردہ جیسے الفاظ اسی حدیث سے جڑے سرچ ٹرمز ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ہر حال میں نقصان دہ جرم یا ظلم کو دبایا جائے؛ مگر فراہم کردہ متن کے اندر اصل بات یہ ہے کہ بندے کے عیب کو پھیلانے کے بجائے پردہ رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس عمل کا بدلہ اپنے پردے سے دے گا۔ اس لیے زبان، مجلس اور سوشل میڈیا میں دوسروں کے عیب اچھالنے سے بچنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی کے عیب کو بلا ضرورت عام کرنا درست رویہ نہیں۔
  • عیب چھپانے والے کے لیے قیامت میں اللہ کے پردے کی امید بیان ہوئی ہے۔
  • زبان اور مجلس میں لوگوں کی کمزوریاں پھیلانے سے بچنا چاہیے۔
  • حدیث بندوں کے ساتھ نرمی اور پردہ پوشی کا مزاج دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں