صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۵ - بندے کا عیب چھپانا

دنیا میں عیب پوشی، قیامت میں اللہ کا پردہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۹۵

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۵۹۵ کا خلاصہ

اس روایت میں بھی عیب پوشی کا وہی مضمون بیان ہوا ہے۔ الفاظ کے مطابق جو بندہ دنیا میں کسی بندے کا عیب چھپاتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کا عیب چھپا دے گا۔ یہ حدیث ہمیں لوگوں کی کمزوریوں کے ساتھ نرمی کا راستہ دکھاتی ہے۔ جب کوئی بات صرف عیب اچھالنے، مذاق بنانے یا رسوا کرنے کے لیے بیان کی جائے تو اس سے معاشرے میں بدگمانی اور غیبت بڑھتی ہے۔ اس کے برعکس عیب چھپانے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بندے کے لیے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کی عزت بچائے۔ یہاں متن میں قیامت کا ذکر بھی ہے، اس لیے معاملہ صرف دنیا کی شرافت نہیں بلکہ اللہ کے ہاں جواب دہی سے بھی جڑا ہے۔ البتہ حدیث کے الفاظ سے باہر جا کر ہر صورت کا حکم نہیں لگانا چاہیے؛ اصل پیغام عیب کو بلا ضرورت ظاہر نہ کرنے کا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عیب پوشی بندے کی عزت بچانے کا ذریعہ ہے۔
  • رسوا کرنے والی باتوں سے غیبت اور بدگمانی بڑھ سکتی ہے۔
  • حدیث میں دنیا کے عمل کا تعلق قیامت کے پردے سے بتایا گیا ہے۔
  • کسی کی کمزوری کو پھیلانے سے پہلے اللہ کے سامنے جواب دہی یاد رکھنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں